Question:
Mufti sahab, there is confusion on this matter because of a difference of opinion. When I read Ascent to Felicity, it says the same as you mentioned: that the place where actual sacrifice takes place is considered for Eid prayer rather than the location of a person on whom qurbani is wajib.
قربانی سے متعلق اہم مسئلہ
اس مرتبہ پاکستان اور متعدد عرب، مغربی اور یورپین ممالک میں عید الاضحٰی ایک ہی تاریخ میں آرہی ہے، ان ممالک میں رہنے والے بہت سے پاکستانی اپنی قربانی پاکستان میں کراتے ہیں، اسی تناظر میں یہ مسئلہ سمجھنا ضروری ہے:
جب مؤکل (قربانی کرانے والا) دوسرے ملک میں ہو اور اس کی قربانی پاکستان میں ہورہی ہے تو قربانی کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک میں عید کے مشترکہ ایام ہوں اور پاکستان میں جس وقت جانور ذبح کیا جائے مثلاً دیہات میں صبح صادق کے بعد اور شہر میں کسی ایک جگہ عید کی نماز کے بعد تو اس وقت مؤکل (قربانی کرانے والے) کے ملک میں کم از کم پہلے دن کی صبح صادق کا ہونا ضروری ہے، یعنی مؤکل کے ملک میں عید کی نماز کا ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ صبح صادق کا ہونا ضروری ہے اور اگر وہاں ابھی صبح صادق ہی نہ ہوئی تو پھر پاکستان میں اس کی قربانی شرعاً درست نہیں ہوگی جب تک کہ مؤکل (قربانی کرانے والے) کے ملک میں صبح صادق نہ ہوجائے.
تحریر : بندہ محمد عاصم، فاضل و متخصص جامعہ دارالعلوم کراچی، مدرس جامعہ مظاہرالعلوم
Qun: Eid slaughtering overseas: what to consider for the validity?
https://qna.ilmhub.com/question/eid-slaughtering-overseas-what-to-consider-for-the-validity/
علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
بعض علماء کرام کی یہی رائے ہے جو آپ نے بھیجی ہے، البتہ جمہور کی رائے میں دونوں ممالک کے مشترکہ ایام میں قربانی ضروری ہے اور یہی موقف مفتی تقی عثمانی صاحب حفظہ اللہ کا ہے اور اسی میں احتیاط ہے
Answer:
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-salāmu ʿalaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.
The issue of performing uḍḥiyya (qurbānī) in another country raises a common question every year: When determining the appropriate time to carry out the uḍḥiyya, is the Eid prayer in the physical location of the person considered, or where the actual uḍḥiyya is taking place? This is a widely disputed issue among contemporary scholars. The contention stems from a difference in understanding the classical texts of the fuqahā’ on this topic. The fuqahā’ state that the Eid prayer in the location of uḍḥiyya is considered.[1] However, some of our respected scholars don’t recognize this as a general rule. Rather, their position is that the time of Eid prayer in the location of the person on whose behalf the uḍḥiyya is being offered is the standard, and that the time at the site of uḍḥiyya is only considered once the obligation itself commences, i.e., after Fajr time begins on the day of Eid. Their basis for this inference is that the classical texts cite an example of a city resident who arranges his uḍḥiyya in a rural area. Such an individual may have their uḍḥiyya performed after Fajr commences in the rural village. Hence, they conclude that for the validity of the uḍḥiyya, Fajr time must commence in the location of the person arranging the uḍḥiyya.[2] Other scholars opine that the location of uḍḥiyya is considered, regardless of whether the time of Fajr on Eid has commenced in the location of the person arranging it.[3] Darul Iftaa Canada subscribes to the latter view based on the following reasons:
- The commencement of Fajr is a conditional clause for the validity of uḍḥiyya, while the primary legal cause of obligation is that the individual’s assets reach the amount of niṣāb.[4] Once the primary legal cause is established, it is sufficient to take the commencement of Fajr at the uḍḥiyya location into account.
- In scenarios where a wakīl (agent) is involved, the location of the wakīl is taken as the standard because the wakīl serves in the position of the one who has commissioned him (i.e., the Muwakkil). For example, if an individual is commissioned as a wakīl for Nikah, the presence of the wakīl is required for the validity of the Nikah, not the Muwakkil. Therefore, the location of the wakīl effectively serves as the location of the Muwakkil.[5]
- In the discussion of this issue, the fuqaha detail a method through which a city resident may complete their Uḍḥiyya They may send the animal to a rural area, even beyond the distance of travel, and have it slaughtered immediately after Fajr.[6] In this scenario, the fuqaha do not impose a restriction to wait until Fajr commences at the city resident’s location, even though Fajr in the rural area may commence before Fajr in the city.[7]
And Allah Ta’āla Knows Best
Uzair Mutaqi
Lilburn, Georgia, USA
Checked and Approved by:
Muftī Yusub ibn Yaqub
Mufti Faisal bin Abdul Hamīd al-Mahmudi
Darul Iftaa Canada
fatwa.ca
المبسوط للسرخسي، كتاب الذبائح، باب الأضحية، ج١٢، ص١٩، دار المعرفة ثم المعتبر المكان الذي فيه الأضحية حتى إذا كان الرجل بالمصر وأضحيته بالسواد يجوز أن يضحي بها بعد انشقاق الفجر
الإختيار لتعليل المختار، كتاب الأضحية، ج٥، ص٢٠، دار الكتب العلمية والمعتبر مكان الأضحية لإمكان المالك كما في الزكاة
رد المحتار، كتاب الأضحية، ج٩، ص٤٦١، دار عالم الكتب والمعتبر مكان الأضحية لا مكان من عليه فحيلة مصرى اراد التعجيل ان يخرجها لخارج المصر فيضحى بها اذا طلع الفجر
فتاوى عثماني، كتاب الأضحية، فصل في وقت الأضحية، ج٤، ص١٠٢، مكتبة معارف القران كراچى قربانی کے بارے میں مولانا مفتی فاروق ڈیسائی صاحب کا فتوی موصول ہوا، بندے کو اس سے اتفاق ہے، اور ان کے دلائل قوی ہیں اور فتاوی رحیمیہ میں تسامح ہے، کیونکہ انہوں نے جو عبارت نقل کی ہے اس میں قربانی بعد الوجوب ہے، جبکہ زیر بحث مسئلہ میں قربانی قبل سبب الوجوب واقع ہورہی ہے، نیز احتیاط اس میں ہے کہ جب قربانی کسی ملک میں کی جائے تو جس شخص کی طرف سے قربانی کی جارہی ہے، اس کے ملک میں بھی ابھی ایامِ اضحیہ ختم نہ ہوئے ہوں۔
فتاوى رحيمية، كتاب الأضحية، ج١٠، ص٤٠، دار الاشاعت قربانی کا جانور جس جگہ ہو اس جگہ کا اعتبار ہوتا ہے، قربانی کرنے والے کی جگہ کا اعتبار نہیں ہوتا ، چنانچہ اگر قربانی والا شہر میں ہو اور وہ اپنا قربانی کا جانور ایسے گاؤں میں بھیج دے جہاں عید کی نماز نہیں ہوتی اور وہاں صبح صادق کے بعد اس کی قربانی کا جانور ذبح کر دیا جائے تو اس شہر والے کی قربانی صحیح ہو جائے گی۔
البناية شرح الهداية، كتاب الأضحية، ج١٢، ص٢٤، دار الكتب العلمية م: (ثم المعتبر في ذلك) ش: أي في الذبح م: (مكان الأضحية حتى لو كانت في السواد والمضحي في المصر) ش: أي: وكان الذي يضحي في المصر م: (يجوز كما انشق الفجر) ش: لدخول الوقت م: (ولو كان على العكس) ش: وهو ما إذا كانت الأضحية في المصر والمضحي في السواد م: (لا يجوز إلا بعد الصلاة) ش: لعدم دخول الوقت قبل الصلاة، قال الكرخي في «مختصره»: إن كان رجل من أهل السواد، وسكنه فيه دخل المصر لصلاة الأضحى، وأمر أهله أن يضحوا عنه، فإنه يجوز أن يذبحوا عنه بعد طلوع الفجر وإن سافر رجل فأمر أهله وهم في المصر أن يضحوا عنه، فإنه لا يجوز أن يذبحوا عنه إلا بعد صلاة الإمام وطلوع الفجر قال محمد: أنظر إلى موضع الذابح ولا أنظر إلى موضع المذبوح عنه، وروي ذلك عن ابن سماعه في «نوادره»، وكذلك روى الحسن بن زياد عن أبي يوسف أنه قال: يعتبر المكان الذي يكون فيه الذبح، ولا يعتبر الموضع الذي يكون فيه المذبوح عنه وقال الحسن: إن كان الرجل في المصر، وأهله في آخر لم يذبحوا حتى يصلى في المصرين جميعا، فإن ذبحوا قبل ذلك لم يجزه وقال محمد: يؤخر الذبح حتى يصلى في المصر الذي فيه الذبيحة ولا ينتظر بذلك صلاة المصر الآخر، فإن صلى الإمام العيد ولم يخطب أجزئ من الذبح، وقال محمد: إن أخر الإمام صلاة العيد فليس للرجل أن يذبح الأضحية حتى ينتصف النهار م: (وحيلة المصري إذا أراد التعجيل أن يبعث بها) ش: أي بالأضحية م: (إلى خارج المصر فيضحي بها كما طلع الفجر) ش: لأن الاعتبار لمكان الأضحية كما مر. م: (هذا) ش: أشار إلى كون مكان الأضحية معتبرا. م: (لأنها) ش: أي الأضحية م: (تشبه الزكاة من حيث إنها تسقط بهلاك المال قبل مضي أيام النحر كالزكاة بهلاك النصاب، فيعتبر في الصرف مكان المحل، لا مكان الفاعل اعتبارا بها بخلاف صدقة الفطر؛ لأنها لا تسقط بهلاك المال بعدما طلع الفجر من يوم الفطر
البناية شرح الهداية، ج١٢، ص٤، دار الكتب العلمية وشرط اليسار؛ لقوله – ﷺ -: «من وجد سعة ولم يضح» على الوجوب بالسعة للفقير على ما يجيء ذلك مفصلا
فتاوى دار العلوم زكريا، كتاب الأضحية، إضاءة الضواحي في اعتبار مكان الأضاحي، ج٦، ص٣٢٤، زمزم ببلشرز ہاں غنا ( وجوب فی الذمہ ) کے بعد اگر جانور کی جگہ میں عید ہے تو قربانی جائز ہوگی ، کیونکہ سب یعنی مالک کے بارے میں غنا موجود ہے، اور قربانی کے جانور کی جگہ میں یا وکیل کی جگہ میں عید ( شرط ادا) موجود ہے، لہذا صورت اور ایران ی اور اس کے کیا کہ رانی الی عادت ہے اس کے وجوب کی ملک الان درست ہے ۔ کیونکہ ت بالاتفاق ( غنا ہے جس کا تعلق مکلف کے ساتھ ہے، اور قربانی کے وجوب ادا کا تعلق اضحیہ (جانور) کے ساتھ ہے نہ کہ مکلفہ ہے۔ پس ثابت ہوا کہ وقت ( ایام الخر ) کا اعتبار محل ادا کے لحاظ سے ہے۔ نہ کہ مکلف کے لحاظ سے۔
فتاوى دار علوم زكريا، كتاب الأضحية، إضاءة الضواحي في اعتبار مكان الأضاحي، ج٦، ص٣٢٦، زمزم ببلشرز ہمارے دار الافتاء سے یہ مسئلہ چند بار لکھا گیا ، آخری مرتبہ میں جو لکھا گیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ وکالت میں وکیل کے زمان و مکان کا اعتبار ہوتا ہے، موکل کے زمان و مکان سے قطع نظر کرتے ہوئے جب وکیل کے ہاں وقت ہو جائے تو وہ موکل کی طرف سے قربانی کر سکتا ہے، جس طرح کسی معذور یا مریض کی طرف سے ہے بدل میں وکیل سعودیہ کی تاریخ کے مطابق عرفہ، مزدلفہ اور دیگر افعال حج انجام دیگا اگر چه هندوستان یا پاکستان میں یہ ایام ایک یا دو دن بعد میں آجائیں ، اس کے باوجود یہ تمام افعال درست ہوں گے۔ اسی طرح اگر کسی دوسرے کو نکاح کا وکیل بنایا اور اس نے نکاح منعقد کر لیا نو نکاح کے منعقد ہونے کے لیے ایجاب و قبول کی مجلس کا اتحاد ضروری ہے لیکن وکیل کی مجلس کا اعتبار ہے موکل کی مجلس کا اعتبار نہیں۔
البحر الرائق، كتاب الأضحية، ج٨، ص٣١٧، ٣٢١، دار الكتب العلمية وأما شرائط أداءها فمنها الوقت في حق المصري بعد صلاة الإمام والمعتبر مكان الأضحية لا مكان المضحي وسببها طلوع فجر يوم النحر… والمعتبر في ذلك مكان الأضحية حتى لو كانت في السواد والمضحي في المصر يجوز كما انشق الفجر، وفي العكس لا يجوز إلا بعد الصلاة. وحيلة المصري إذا أراد التعجيل أن يبعث بها إلى خارج المصر في موضع يجوز للمسافر أن يقصر فيضحي فيه كما طلع الفجر لأن وقتها من طلوع الفجر وإنما أخرت في حق المصر لما ذكرنا
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، كتاب الأضحية، ج٤، ص١٧٠، دار الكتب العلمية ثم المعتبر في ذلك مكان الأضحية حتى لو كان في السواد والمضحي في المصر يجوز من انشقاق الفجر وعلى عكسه لا يجوز إلا بعد الصلاة وحيلة المصري إذا أراد التعجيل أن يخرج بها إلى خارج المصر فيضحي بها كما طلع الفجر اعتبار بالزكاة بخلاف صدقة الفطر
تبيين الحقائق، كتاب الأضحية، ج٦، ص٤، مكتبة امدادية والمعتبر في ذلك مكان الأضحية حتى لو كانت في السواد والمضحي في المصر يجوز كما انشق الفجر، وفي العكس لا يجوز إلا بعد الصلاة، وحيلة المصري إذا أراد التعجيل أن يبعث بها إلى خارج المصر في موضع يجوز للمسافر أن يقصر فيه فيضحي فيه كما طلع الفجر، لأن وقتها من طلوع الفجر، وإنما أخرت إلى ما بعد الصلاة في المصر لما ذكرنا، وهذا لأنها تشبه الزكاة من حيث إنها تسقط بهلاك المال قبل مضي أيام النحر كالزكاة تسقط بهلاك النصاب فيعتبر في الأداء مكان المحل، وهو المال لإمكان الفاعل اعتباراً بها بخلاف صدقة الفطر حيث يعتبر فيها مكان الفاعل
فتاوى دار علوم زكريا، كتاب الأضحية، إضاءة الضواحي في اعتبار مكان الأضاحي، ج٦، ص٣٢٦، زمزم ببلشرز فقہاء نے تحریرفرمایا ہے کہ اگر شہری جلدی قربانی کرنا چاہتا ہو تو کسی گاؤں میں بھیج دے، دیہاتی شخص صبحہوتے ہی فوراً جانور ذبح کرلے تو قربانی درست ہے ، اس میں یہ مذکور نہیں کہ شہری آدمی کی قربانی دیہات میں تب ہو سکتی ہے جب شہر میں فجر طلوع ہو چکی ہو۔


