Is Madd al-Muttaṣil Always Obligatory and Madd al-Munfaṣil Optional?

by Mufti Faisal
6 minutes read

Question:

I have a question in tajweed. In types of madd, there’s a madd called wajib muttasil and another called jaa’iz munfasil. Is it that the muttasil is wajib in all cases/circumstances, and munfasil is ok to be stretched sometimes and dropped sometimes?

Answer:

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ʿalaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

The Qurāʾ agree by consensus that stretching al-madd al-muttaṣil is necessary in all its cases.[1]

In contrast, some of the Qurāʾ provide dispensation for the reciter to shorten al-madd al-munfaṣil.[2] Hence, it is permissible for the reciter to choose between stretching and shortening al-madd al-munfaṣil, and thus it is also termed “jāʾiz”. [3]

Nonetheless, the reciter is discouraged from switching between the two in a single session. An etiquette of recitation that should be observed with respect to mudūd (elongations) is to be consistent in the duration of al-madd al-munfaṣil, whether the reciter chooses to stretch or shorten it. [4]
 
And Allah Ta’āla Knows Best

Muftī Uzair Mutaqi
Lilburn, Georgia, USA


Checked and Approved by:

Muftī Faisal bin Abdul Hamīd al-Mahmūdī
www.fatwa.ca


[1]

المقدمة الجزرية، باب المد والقصر، ص٨، مكتبة البشرى 
وواجب إن جاء قبل همزة متصلاً إن جمعا بكلمة وجائز إذا أتى منفصلاً أو عرض السكون وقفاً مسجلا

فتح رب البرية شرح المقدمة الجزرية في علم التجويد، باب المد، ص٧٦-٧٧، دار نور المكتبات 
ثانياً: المد الواجب: تعريفه: ويقصد به المد المتصل وهو أن يأتي بعد حرف المد همزة في كلمة واحدة… مقدار مده: يمد المد المتصل بمقدار أربع أو خمس حركات. ملحوظة: يقول الإمام ابن الجزري: تتبعت قصر المتصل فلم أجده في قراءة صحيحة ولا شاذة. ثالثاً: المد الجائز: والمد الجائز له أنواع متعددة منها: أ- المد المنفصل: تعريفه: هو أن يأتي حرف المد آخر كلمةٍ، والهمزة أول الكلمة التي تليها. مثاله: «بِمَآ أُنزِلَ»، «قُوآ أَنفُسَكُمْ»، «وَفِي أَنفُسِكُمْ». مقدار مده: يمد بمقدار حركتين أو أربع حركات، ولذلك سمي مدًا جائزًا أي يجوز مده ويجوز قصره، إلا أنه يمد بمقدار أربع أو خمس حركات فقط من طريق الشاطبية.

جمال القرآن، گيارهوں لمعه الف، واو اور يا كے قاعدوں ميں، ص٣٢-٣٣، مكتبة البثرى 
قاعده ا: اگر حروف مدہ کے بعد ھمزہ ہو اور یہ حروف مدہ اور ھمزہ دونوں ایک کلمہ میں ہوں تو وہاں اس مدہ کو بڑھا کر پڑھیں گے، اور اس بڑھا کر پڑھنے کو مد کہتے ہیں، جیسے: سَوَاءٌ، سُوءُ، سِيِّئَتُ اور اس کا نام متصل ہے اور اس کو مد واجب بھی کہتے ہیں۔ اور مقدار اس کی تین الف، یا چار الف ہے، اور الف کے اندازہ کرنے کا طریقہ نویں لمعہ کے قاعدہ (۱) کے فائدہ میں لکھا گیا ہے۔ پس اس طریقہ کے موافق تین یا چار انگلیوں کو آگے پیچھے بند کر لینے سے یہ اندازہ حاصل ہو جائے گا ، مگر یہ مقدار اس مقدار کے علاوہ ہے جو حروف مدہ کی اصلی مقدار ہے، مثلاً جاء میں اگر مد نہ ہوتا تو آخر الف کی بھی تو کچھ مقدار ہے، سو اس مقدار کے علاوہ مد کرنے کی سو مد مقدار ہوگی ۔ قاعدہ٢: اگر حروف مدہ کے بعد ھمزہ ہو اور یہ حرف مدہ اور وہ ھمزہ ایک کلمہ میں نہ ہوں، بلکہ ایک کلمہ کے اخیر میں تو حرف مدہ ہو اور دوسرے کلمہ کے شروع میں ھمزہ ہو، وہاں بھی اس مدہ کو بڑھا کر یعنی مد کے ساتھ پڑھیں گے، جیسے: إِنَّا أَعْطَيْنكَ الَّذِي أَطْعَمَهُمْ ، قَالُوا آمَنَّا مگر یہ مد اس وقت ہوگا جب دونوں کلموں کو ملا کر پڑھیں ، اور اگر کسی وجہ سے پہلے کلمہ پر وقف کر دیا تو پھر یہ مد نہ پڑھیں گے، اس مد کو یہ منفصل اور مد جائزہ بھی کہتے ہیں اور اس کی مقدار بھی تین یا چار الف ہے، جیسے متصل کی تھی۔ ان دونوں کی الگ الگ کسی کو پہچان نہ ہو تو فکر نہ کریں، کیونکہ دونوں ایک ہی طرحپڑھے جاتے ہیں۔

[2]

الوافي في شرح الشاطبية، باب المد والقصر، ص٧٤، مكتبة السوادي للتوزيع

وحاصل الكلام في المد المنفصل: أنّ للسوسي وابن كثير فيه القصر حركتين قولا واحدا، وأن لقالون والدوري فيه القصر والتوسط، وأن لباقي القراء غير ورش وحمزة التوسط أربع حركات، وأن لورش وحمزة المد ست حركات. وحاصل الكلام في المد المتصل: أن ورشا وحمزة يمدانه مدّا مشبعا بمقدار ست حركات، وأن باقي القراء يمدونه مدّا متوسطا بمقدار أربع حركات، هذا هو المعتمد المقروء به المعول عليه في المدين للقراء السبعة، وهو الذي كان يقرئ به الإمام الشاطبي كما نقله عنه السخاوي، كما سبق.

 

[3]

فتاوى رحيمية، كتاب الصلاة، احكام القراءة وزلة القاري، ج٥، ص١٠٢، دار الإشاعت 
مدمنفصل جائز کی مقدار ۳ یا ٤ الف ہے اور قصر بھی جائز ہے کوئی ایک مقدار لازم اور ضروری نہیں ہے تینوں طرح پڑھ سکتے ہیں، لہذا امام بھی تینوں پر عمل کرے گا ہے طول ، گا ہے تو سط ، گا ہے قصر ، ہمیشہ قصر نہ کرے تا کہ طلبہ کو عجیب سا معلوم نہ ہو اور مسئلہ سے بھی واقف ہو جا ئیں ، امام نماز میں خلط ملط نہ کرے جو مقدار شروع سے اختیار کرے آخر تک اسے نبھائے ۔ جزری میں ہے۔

 

A Gift For The Qari, Chapter on Madd, Pg 191-193, Altaf & Sons

مد متصل is known as مد واجب as well, because from the time of Nabi-e-Kareem till now there is consensus on madd being necessary in the مد متصل There is no difference of opinion in this regard. Allaamah Jazri states that he made extensive research and great effort but could not find any narration in which the permissibility of قصر is indicated in the مد متصل. Rather a narration in support of madd is found which is reported by Hadhrat Ibn Mas’ood. This has been discussed in the beginning of this chapter.

The duration of مد منفصل is either 2½ or 4 alifs, which are the durations for توسط. This is according to the طريق of Allaamah Shatbi. However, according to the of Allaamah Jazri قصر too is permissible. This madd is also known as مد جائز because of the permissibility of قصر in it according to some طرق.

 

[4]

فوائد مكية، باب سوم، فصل ثالث: مقدار اور اوجه مدّ كے بيان ميں، ص٤٦-٤٧، مكتبة البشرى 
فائدہ: مد متصل اور منفصل کی مقدار میں کئی قول ہیں: دو الف، ڈھائی الف، چار الف اور منفصل میں قصر بھی جائز ہے۔ ان اقوال میں جس پر جی چاہے عمل کیا جائے گا مگر اس کا خیال رکھنا چاہیے کہ مد متصل جب کئی جگہ ہوں تو جس قول کو پہلی جگہ لیا ہے وہی دوسری تیسری جگہ رہے، مثلاً : وَالسَّمَاء بناءً میں اگر اقوال کو ضرب دیا جائے تو نو وجہیں ہوتی ہیں اور ان میں سے تین وجہ مساوات کی ہیں وہ صحیح ہیں باقی چھ وجہیں غیر صحیح ہیں۔ ایسا ہی جب منفصل کئی جمع ہوں تو اُن میں بھی اقوال کو خلط نہ کرے، مثلا: لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ اس میں بھی یہ نہ ہونا چاہیے کہ پہلی جگہ ایک قول دوسری جگہ دوسرا قول لیا جائے بلکہ مساوات کا خیال رکھنا چاہیے ۔

Related Posts

Focus Mode