Question:
In relation to physical documentation, I would like to confirm the appropriate method of disposal when the name “Muhammad” appears on a document. Should it be discarded as is, or should the name be obscured prior to disposal? Please advise.
Answer:
In Islam, we are instructed to uphold a high level of reverence for Islamic materials that contain verses of the Quran, aḥādīth of our Messenger ﷺ, and, as an extension, the name of Allāh and the names of His blessed Prophets. Therefore, it is essential to discard such documents in a respectful manner. The most suitable method of disposal is to wrap up the materials and bury them in a secluded area that is unfrequented by pedestrians. Alternatively, the documents may be discarded in flowing water, such as a stream or river. However, given that the preceding methods are not always practically feasible, a contemporary solution is to first obscure the blessed name of the Prophet ﷺ wherever found on the documents, followed by may micro shred them, or cross shred them if micro-shred is not possible, and then use recycling them. As a final resort, the documents may be collected and burned. [1]
And Allah Ta’āla Knows Best
Muftī Uzair Mutaqi
Lilburn, Georgia, USA
Checked and Approved by:
Muftī Yusub ibn Yaqub
Mufti Faisal bin Abdul Hamīd al-Mahmudi (اشفيه الله)
Darul Iftaa Canada
fatwa.ca
شرح كتاب السير الكبير، باب ما يحمل عليه الفيء وما يركبه الرجل من الدواب وما يجوز فعله بالغنائم في دار الحرب من القسمة وغير ذلك، ج٣، ص١٤١-١٤٢، دار الكتب العلمية
وإذا أصاب المسلمون غنائم فكان فيها مصحف لا يدرى أن المكتوب فيه توراة أو إنجيل أو زبور أو كفر، فليس ينبغي للأمير أن يبيع ذلك من المشركين، مخافة أن يضلوا به فيكون هو المسبب لفتنتهم وإصرارهم على الكفر، وذلك لا رخصة فيه، وكذلك لا يبيع من مسلم لأنه لا يأمن أن يبيع ذلك منهم أيضا فيضلوا بسببه وكذلك لا يقسم بين الغانمين لأنه لا يأمن على من وقع في سهمه أن يبيعه من المشركين فيضلوا بسببه ولا ينبغي له أن يحرق بالنار ذلك أيضا لأن من الجائز أن يكون فيه شيء من ذكر الله تعالى، ومما هو كلام الله، وفي إحراقه بالنار من الاستخفاف ما لا يخفى… ولكنه ينظر في ذلك فإن كان لورقه قيمة محي الكتاب وجعل الورق في الغنيمة وإن لم يكن لورقه فليغسل ورقه بالماء حتى يذهب الكتاب ثم يحرقه بعد ذلك إن أحب لأنه لا كتاب فيه، وربما يكون في إحراقه بعد غسله المكتوب فيه معنى الغيظ لهم، وهم المشركون، فلا بأس بأن يفعله ولا ينبغي له أن يدفن شيئا من ذلك قبل محو الكتاب لأنه لا يأمن أن يطلبه المشركون فيستخرجوه، ويأخذوا بما فيه، فيزيدهم ذلك ضلالا إلى ضلالهم وفي هذا التعليل إشارة إلى أنه إذا كان يأمن ذلك فلا بأس بأن يدفنه، فيكون دليلا لقول من يقول من أصحابنا فيما إذا انقطع أوراق المصحف: إنه لا بأس بدفنه في مكان طاهر والغسل بالماء أحسن الوجوه فيه على ما ذكره
رد المحتار، كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج٢٢، ص١٥٧، دار الثقافة والتراث
الكتب التي لا ينتفع بها يمحى عنها اسم الله وملائكته ورسله ويحرق الباقي ولا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن كما في الأنبياء… لكن عبارة المجتبى: (والدفن أحسن كما في الأنبياء والأولياء إذا ماتوا وكذا جميع الكتب إذا بليت وخرجت عن الإنتفاع بها). يعني أن الدفن ليس فيه إخلال بالتعظيم لأن أفضل الناس يدفنون
حاشية الطحطاوي على الدر المختار، كتاب الحظر والإباحة، باب الإستبراء وغيره، فصل في البيع، ج١١، ص٢٢٥، دار الكتب العلمية
قوله: (وهو أحسن) لأنه يفعل بالأنبياء والأولياء إذا ماتوا فكذا جميع الكتب إذا بليت وخرجت عن الإنتفاع بها
تكملة البحر الرائق، كتاب الوصايا، باب الوصية بالخدمة والسكنى والثمرة، ج٩، ص٣٠٢، دار الكتب العلمية
والكتب التي فيها الرسل وفيه اسم الله ويستغنى عنها صاحبها بحيث أن لا يقرأها واجب محموماً فيها من اسم الله ولم يحفر بها ويلقيها في الماء الجاري الكثير فلا بأس به وإن لم يفعل ودفنها في أرض ظاهرة ولا ينالها قذر كان حسناً ولا يجوز أن يحرقها بالنار حتى يمحو ما كان من أسماء الله تعالى وأسماء رسله وملائكته
البناية شرح الهداية، كتاب الكراهية، ج١٢، ص٢٣٨، دار الكتب العلمية
وفي جامع شمس الأئمة: الرسائل والآثار والكتب التي لا منفعة فيها يمحى عنها اسم الله وملائكته ورسله، ويحرق بالنار فلو ألقاها في الماء الجاري أو دفنها لا بأس به والدفن أحسن كما في الأنبياء والأولياء إذا ماتوا، وكذا جميع الكتب إذا بليت وخرجت عن الانتفاع
الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة والمصحف وما كتب فيه شيء من القرآن، ج٥، ص٣٩٩، دار الكتب العلمية
المصحف إذا صار خلقا لا يقرأ منه ويخاف أن يضيع يجعل في خرقة طاهرة ويدفن، ودفنه أولى من وضعه موضعا يخاف أن يقع عليه النجاسة أو نحو ذلك ويلحد له؛ لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف بحيث لا يصل التراب إليه فهو حسن أيضا، كذا في الغرائب المصحف إذا صار خلقا وتعذرت القراءة منه لا يحرق بالنار، أشار الشيباني إلى هذا في السير الكبير وبه نأخذ، كذا في الذخيرة
المحيط البرهاني، كتاب الإستحسان والكراهية، الفصل الخامس في المسجد والقبلة والمصحف وما كتب فيه شيء من القرآن، ج٥، ص٣٢١، دار الكتب العلمية
وإذا صار المصحف خلقا بحيث لا يقرأ منه لا يحرق؛ إليه أشار محمد رحمه الله في السير في باب ما يوجد من الغنيمة، فيكره قسمته، وبه نأخذ، ولا يكره دفنه، ومن أراد دفنه ينبغي أن يلفه بخرقة طاهرة، ويحفر لها حفرة ويلحد ولا يشق؛ لأنه متى شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير واستخفاف بكتاب الله تعالى، وإن شاء غسله بالماء حتى يذهب ما به، وإن شاء وضعه في موضع طاهر لا تصل إليه يد المحدثين، ولا تصل إليه النجاسة تعظيما لكلام الله تعالى، تصغير المصحف حجما وأن يكتب بقلم دقيق مكروه
امداد الفتاوى،كتاب الحظر والاباحة، ج٨، ص٤٦٩، زكريا بك ڈپوانڈيا الهند
اس روایت سے معلوم ہوا کہ جن کا غذات میں دینی احکام لکھے ہوں ان کو ایسے استعمال میں لانا جائز نہیں اور جن کا غذات میں اور مضامین ہوں ان کو ایسے استعمال میں لانا جائز ہے، مگر اس میں بھی یہ ضرور ہے کہ جہاں جہاں اللہ ورسول کا نام لکھا ہو اس کو محو کر دے، یعنی یا تو اس پر سیاہی پھیر دے یا اس کو زبان سے چاٹ کر لعاب نگل جائے
فتاوى محمودية، الابواب ما يتعلق بالقرآن والحديث، باب دوم آداب قرآن، ج٧، ص١٣٣-١٣٦، مكتبةمحموديه
سوال: – خطوط جن پر احادیث نبوی یا قرآنی آیت کے مطالب لکھے ہوں ان کو کیا کرنا چاہیے؟ الجواب حامد أو مصلياً ان کو دفن کر دیا جائے یا پانی میں بہادیں۔ جلانے کی بھی گنجائش ہے
سوال: – اخبار الجمعیۃ اور دعوت کو ردی میں فروخت کرنا کیسا ہے جب کہ اس میں بعض جگہ قرآنی آیتیں بھی ہوتی ہیں۔ الجواب حامد أو مصلياً ان کو پاک کپڑے میں لپیٹ کر زمین میں قبر بنا کر دفن کر دیں ردی میں فروخت کرنے سے بہت بے حرمتی ہوگی یا فقط واللہ سبحانہ تعالی اعلم
سوال: – قرآن کریم کے بوسیدہ اوراق کو اگر کوئی آگ میں جلا دے تا کہ بے حرمتی سے بچ جائے تو اس میں کوئی گناہ تو نہیں؟ الجواب حامد أو مصلياً اس میں کوئی گناہ نہیں۔ لیکن پاک کپڑے میں لپیٹ کر محفوظ جگہ دفن کرنا اس سے بھی بہتر ہے ۔ فقط واللہ سبحانہ تعالی اعلم
فتاوى رحيمية، ما يتعلق بالقرآن والتفسير، ج٣، ص١٢-١٢، دار الاشاعت
قرآن کریم ( کے اوراقی) کو جو بوسیدہ یاد نمک خورده ، نا قابل انتفاع ہو چکے ہوں ایسے پاک کپڑے میں لپیٹ کر کسی محفوظ جگہ میں جہاں لوگوں کی آمد و رفت بالکل نہ ہو یا کم ہو دفن کر دیا جائے جیسا کہ مسلمان میت کو دفنایا جاتا ہے… دوسری صورت یہ ہے کہ بوسیدہ قرآن مجید کے ساتھ کوئی وزنی شے باندھ دی جائے اور اس طرح اس کو بہتے ہوئے گہرے پانی میں یا کنویں کی تہ میں احترام کے ساتھ پہنچادیا جائے جہاں مذکورہ بالا صورتوں پر عمل ممکن ہو اور یہ صورتیں اطمینان بخش بھی ہوں تو جلانے کی اجازت نہ ہوگی خصوصاً جب کہ جلانے کو بے حرمتی سمجھا جاتا ہو تو جلانے کی اجازت ہر گز نہیں ہے… ہاں جہاں پر مذکورۃ الصدر دونوں صورتیں دشوار ہوں یا اطمینان بخش نہ ہوں اور مقصد حاصل نہ ہوتا ہو یعنی دفنانے اور پانی میں ڈبونے کے بعد بھی بے حرمتی کا احتمال ہو اور جلائے بغیر چارہ نہ ہوتو جلا کر راکھ دفن کر دی جائے یا پانی میں بہادی جائے
فتاوى دار العلوم زكريا، كتاب الحظر والاباحة، باب ما يتعلق بالقرآن الكريم والذكر والتلاوة والأشياء المقدسة، ج٧، ص٧٤٤، ٨١٨، زمزم ببلشرز
بوسیدہ قرآن جونا قابل استعمال ہو میت کے مشابہ ہے جس کو احترام کے ساتھ دفن کرنا چاہئے
دینی کتب اور رسائل کے بارے میں بعض کتب میں مرقوم ہے کہ اللہ تعالی کا نام مٹا دیا جائے لیکن اس میں حرج ہے، البتہ پاک صاف جگہ پر دفن کر دیا جائے یا پانی میں بہا دیا جائے ، اگر یہ دو صورتیں باسانی ممکن نہ ہو تو جلا دیا جائے اس میں بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔ جیسا کہ حضرت عثمان نے مصاحف کو جلایا تھا جس کی تفصیل ماقبل میں گزر چکی ہے ۔ ہاں بے حرمتی کی نیت سے جلانا درست نہیں۔ ان رسائل اور دینی کتب کی صفائی کر کے دوبارہ استعمال میں لانا بھی جائز اور درست ہے
كتاب النوازل، كتاب الحظر والاباحة، قرآن كريم اور كتب ديني وغيره كے آداب، ج١٥، ص٨٣، دار الاشاعت
جس قرآن کے کچه صفحات يا اجزاء بوسيده ہوجائيں تو ان کو نکال کر صحيح اجزاء مجلد کرادينے چاہئيں- قرآن کريم کے بوسيده اوراق جمع کرکے اور پاک کپڑے ميں لپيٹ کر انہيں يا تو اتنی گہرائی ميں دفن کرديا جائے کہ وه دوباره اوپر نہ آسکيں اور اگر زمين ايسی نرم ہو کہ بعد ميں ان اوراق کے اوپر آنے کا احتمال ہ و تو بہتر يہ ہے کہ احتياط کے ساته کسے ڈرم وغيره ميں رکه کر ان اوراق کو جلاديا جائے اور پهر اس راکه کو يا تو دفن کرديا جائے يا بہتے دريا ميں بہا ديا جائے
علمي وتحقيقي رسائل، مقدس اوراق كا حكم، ج٥، ص٣٣٣-٣٣٥، اداره غفران
مذکوره دلائل و عبارات اور فتاوی جات کی روشنی کا خلاصہ يہ نکلا کہ فاضل، غير ضروری اور بوسيده يا نا قابل استعمال يا اغلاط پر مشتمل قرآنی نسخوں اور مقدس اوراق کو بے احترامی سے بچانے کی خاطرضرورت کے وقت احتياط کے ساته حسب حال جلانے مٹانے اور شق و قطع کرنے کی اجازت ہے، اور قرآن مجيد کے بوسيده نسخوں اور دينی کتابوں يا مقدس اوراق سے کتابت اور نسوخ کو مٹا کر جلانا ان مشائخ حنفيہ کے نزديک جائز نہ کہ واجب ہے اس لئے ان ميں سے جس صورت کو بهی کوئی حسب ضرورت و حيثيت اختيار کرے، اور اپنی طرف سے ادب و احترام کے تقاضوں کو پورا کرے تو اس کی اجازت ہے۔۔۔ اور محدثين عظام و فقہاء کرام کے اقوال کی روشنی ميں اور مسئلہ کے مجتہد فيہ ہونے کی وجہ سے فی نفسہ حرام کہنا مشکل ہے، جس ميں اصولی اعتبار سے ری سائکلنگ کا طريقہ بهی داخل ہے اور کوئی شخص ان ميں سے کسی قول پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی ضرورت و حالت کے مطابق عمل کرے تو اس پر دوسرے کو نکير کا حق نہيں اگرچہ دوسرا شخص کسی اور قول راجح يا افضل کيوں نہ سمجهتا ہو


